ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / حریت والوں نے کشمیریوں کو برباد کیا ہے: بی جے پی لیڈرنےعام شہریوں کی ہلاکت کے لئے حریت کانفرنس کو ذمہ دارٹھہرایا

حریت والوں نے کشمیریوں کو برباد کیا ہے: بی جے پی لیڈرنےعام شہریوں کی ہلاکت کے لئے حریت کانفرنس کو ذمہ دارٹھہرایا

Mon, 26 Nov 2018 19:28:36    S.O. News Service

جموں26 نومبر (ایس او نیوز) بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) جموں وکشمیر یونٹ کے صدررویندررینا نے کشمیر میں عام شہریوں کی ہلاکت پرحریت کانفرنس کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں میں کشمیرمیں ایک لاکھ سے زائد بے گناہ لوگ مارے گئے ہیں اوراس کے لئے حریت پسند قیادت ذمہ دار ہے۔

رویندر رینا نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا ’پلوامہ سری نگر کا ایک گیارہویں جماعت کا طالب علم اسکول جا رہا تھا، راستے میں جنگجوؤں نے اس پرگولیوں کی بوچھار کر دی، بیس گولیوں سے اس کا سینہ چھلنی کردیا گیا۔ کیا وہ کشمیری نہیں تھا، کیا وہ مسلمان نہیں تھا۔ اس کا کیا قصورتھا کہ وہ اسکول جا رہا تھا اوراس کو ماردیا گیا، اس وقت حریت کے لیڈروں سید علی شاہ گیلانی، مولوی میرواعظ عمرفاروق اوریٰسین ملک کو سانپ سونگھ گیا تھا‘۔  

انہوں نے حریت کی بند کی کال پر علیحدگی پسندقیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ گزشتہ دودنوں میں جن جنگجوؤں کو فوج نے ہلاک کیا ہے ان میں سے دو وہ ہیں جنہوں نے کشمیر کے سینئر صحافی شجاعت بخاری کو مارا تھا ۔جب شجاعت بخاری کو مارا گیا اس وقت ان حریت والوں نے بند کی کا ل کیو ں نہیں دی تھی، کیا شجاعت بخاری کشمیری مسلمان نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ "کشمیرمیں ڈی ایس پی محمد ایوب پنڈت، ایس ایچ اوفیروزاحمد، لیفٹیننٹ عمرفیا ض، اسسٹنٹ سب انسپکٹرعبدالرشید اورمینڈھرکے فوجی جوان اورنگ زیب کو ماردیا گیا، تب حریت والوں کی زبان پرتالاکیوں لگ گیا تھا۔  کیوں کہ یہ غدارلوگ ہیں اور پا کستان کے دلال ہیں، پاکسان سے ان کو پیسے ملتے ہیں۔ ان لوگوں نے کشمیریوں کو برباد کردیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 30 برسوں میں جموں وکشمیر کے اندرایک لاکھ بے گناہ لوگ مارے گئے ہیں، اس کے اگرکوئی گنہگا رہیں تووہ حریت کے لوگ ہیں۔ جب پاکستان کی گو لی سے جموں و کشمیرکا کوئی باشندہ مارا جاتا ہے توحریت والے جشن مناتے ہیں، کیا وہ کشمیری نہیں ہے، کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔ یہ حریت والے دلال ہیں پاکستان کے، یہ قاتل ہیں، ان کے کالے کارنامے ساری دنیا کے سامنے آگئے ہیں ۔ یہ حریت والے ناکام ہوگئے ان کی بند کی کال میں 80فیصد کشمیر کے لوگوں نے ووٹ ڈالے ہیں‘۔ 

سابق وزیراعلی فاروق عبداللہ کے ریاستی گورنرکومرکزکا غلام کہنے والے بیان پررویندر نے اپنا ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی بیان بازی قابل مذمت ہے۔ گورنرکا عہدہ آئینی عہدہ ہوتا ہے، اس کے لئے نا شائستہ زبان کا استعمال کرنا غیراخلاقی اورغیرآئینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’فاروق عبداللہ جب مرکزمیں ترقی پسند اتحاد ( یو پی اے ) میں وزیرتھے تب کانگریس نے منتخب سرکاروں کا کیا حشرکیا تھا۔ یہاں توگورنرراج لاگوتھا، گورنرنے صرف اسمبلی کو تحلیل کیا ہے۔ اس ملک کے اندرگزشتہ  70 سالوں میں کانگریس نے منتخب سرکاروں کا کیا حشر کیا ہے یہ ساری دنیاجانتی ہے لیکن مودی حکومت میں کچھ ایسا نہیں ہوا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’جن لوگوں نے جمہورت کا گلہ گھونٹا، جن لوگوں نے جمہورت کو بدنام کیا، آج وہی لوگ جمہورت کےعلمبرداربن کے گھوم رہے ہیں، ان کو لگتا ہے کہ ہم ہی جمہورت کے ٹھیکیدارہیں۔ ان لوگوں کولگتا ہے کہ جموں وکشمیرمیں ان کا وقت ختم (یگ کا انت ) ہو گیا ہے‘۔ انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ 2019 میں مرکزمیں پھرنریندرمودی کی قیادت میں سرکاربنے گی اورجموں وکشمیر میں اگلا وزیراعلیٰ بی جے پی کا ہوگا۔


Share: